ابنا: ايراني پارليمان ميں خواتين کے فريکشن نے اپنے ايک مشترکہ بيان ميں ميانمار کے مسلمانوں کے قتل کي مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ، اسلامي تعاون تنظيم، اور اسلامي پارليماني يونين سے فوري اقدامات کي اپيل کي ہے۔خواتين کے پارليماني فريکشن کے جاري کردہ بيان ميں آيا ہے کہ ميانمار کے مسلمانوں کا قتل عام عالمي اداروں اور انساني حقوق کے دعويداروں کي خاموشي کے سائے ميں کيا جارہا ہے۔ايراني عوام نے بھي حاليہ چند روز کے دوران تہران، قم اور مشہد سميت ملک کے مختلف شہروں ميں احتجاجي مظاہرے کئے اور ميانمار کے مسلمانوں کا قتل عام بند کرانے کا مطالبہ کيا ہے۔
دوسري جانب قم ميں مقيم ديني مدارس کے غير ملکي طلبہ نے بھي ميانمار کے مسلمانوں کے قتل عام کي مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور ديگر عالمي ادروں سے فوي مداخلت کي اپيل کي ہے۔غير ملکي طلبہ کي جانب سے جاري ہونے والے مشترکہ بيان ميں دنيا بھر کے آزاد منش انسانوں سے اپيل کي گئي ہے کہ وہ ميانمار کے مسلمانوں کے خلاف روا رکھے جانے والے امتيازي سلوک اور انکے بے رحمانہ قتل عام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کريں۔
و اضح رہے کہ ميانمار کے صوبے راخين ميں انتہا پسند بودھسٹوں کے حملوں ميں دوہزار سے زيادہ روہينگيا مسلمان جانبحق ہوچکے ہيں۔روہنگيا مسلمانوں کے بہت بڑي تعداد ہمسايہ ملکوں ميں پناہ لينے پر مجبور ہوگئي ہے۔ ميانمار کي حکومت مسلمانوں کو اپنے ملک کا شہري بھي تسليم کرنے پر تيار نہيں ہے۔
.......
/169